وہ ہم کو دل میں رکھے گا یا دل سے اب نکالے گا
وہ ہم کو دل میں رکھے گا یا دل سے اب نکالے گا
اٹھے گا جب تلک پردہ تجسس مار ڈالے گا
میں اکثر جانچنے کو یہ بس اپنا حق جتاتا ہوں
کہاں تک بات مانے گا کہاں پر ہم کو ٹالے گا
تعین کب ہے ممکن اب تعلق کا رویوں سے
اسے ہم پر یقیں ہے زخم سب چپ چاپ کھا لے گا
محبت کی ڈگر پر جو بھی نکلے سوچ کر نکلے
سفر یہ وہ نہیں جو لازماً منزل بھی پا لے گا
کبھی سوچا گیا جو تھک کے دل کی واگزاری کا
سوال اٹھا یہی مصروفیت کیا اور پالے گا
چلن اہل وفا کا ہے اٹل خاموشیاں ابرکؔ
زمانہ دیکھتا ہے سب وہ خود قصہ اچھالے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.