سسکیاں بھر کے لب اداس ہوئے
سسکیاں بھر کے لب اداس ہوئے
یہ مرے دوست جب اداس ہوئے
پوچھتا کوئی تو بتاتے ہم
کب ہنسے اور کب اداس ہوئے
صدیوں پہلے چلا گیا تھا وہ شخص
اور اک آپ اب اداس ہوئے
قہقہوں سے منایا سوگ ترا
رات ہم بھی عجب اداس ہوئے
دل کہ بھر آیا پھر بھی روئے نہیں
خود کو سمجھایا کب اداس ہوئے
تیرے جانے پہ کچھ ہوئے اخترؔ
کچھ تو میرے سبب اداس ہوئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.