جو عشق کرنے لگے ہو تو اتنا دھیان رہے
جو عشق کرنے لگے ہو تو اتنا دھیان رہے
کہ برقرار یہ توقیر خاندان رہے
جو ان کی بزم میں خاموش کر دیے گئے تھے
سنا ہے خواب وہ تا عمر بے زبان رہے
ہم اپنی اپنی محبت کو لاکھ بھول چکے
مگر یہ بات ہمارے ہی درمیان رہے
بدن سے روح رہی ہے ہمیشہ یوں نالاں
پرندہ جیسے کہ پنجرے سے بد گمان رہے
محبتوں کو نبھاؤں گا یوں کہ حشر میں بھی
زبان خلق پہ میری ہی داستان رہے
یہ التجا ہے بصد شوق اے بلالؔ کہ اب
سماعتوں میں سدا عشق کی اذان رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.