جس قدر اجتناب کرتے ہیں
جس قدر اجتناب کرتے ہیں
اس قدر تنگ خواب کرتے ہیں
سوچتے ہی بھلا کہاں ہیں ہم
جب کوئی انتخاب کرتے ہیں
کوئی روتا نہیں جدائی میں
یونہی آنکھیں چناب کرتے ہیں
تیرا میرا حساب بنتا ہے
بیٹھ مل کر حساب کرتے ہیں
ہم کو شرمندگی اٹھانا پڑی
اپنا جب احتساب کرتے ہیں
کیا برا بھی نہیں منائیں لوگ
جب انہیں بے نقاب کرتے ہیں
سوچنا بھی نہیں ہے نفرت کا
پیار بھی بے حساب کرتے ہیں
خامشی بھی ہے منفرد امجدؔ
بات بھی لا جواب کرتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.