جناب شر کی کدورت کا ہم رکاب ہوں میں
جناب شر کی کدورت کا ہم رکاب ہوں میں
زمانہ لاکھ کہے ٹھیک پر خراب ہوں میں
مرا وجود سراپائے خیر و شر تو نہیں
کہیں پہ خار کہیں شبنمی گلاب ہوں میں
جناب شر کے فضائل پہ جو لکھی نہ گئی
ہے مختصر سا خلاصہ وہی کتاب ہوں میں
مجھے فقیر سمجھتے ہیں گر سمجھنے دو
نظر میں ماں کی تو بگڑا ہوا نواب ہوں میں
جو خامشی سے نہیں آشنا وہ مجھ کو پڑھیں
سکوت حشر پہ لکھا گیا نصاب ہوں میں
مجال کس کی کرے کوئی ہمسری میری
غلام حضرت شاہ ابو تراب ہوں میں
یہ امتزاج مری شخصیت میں ہے حیدرؔ
گناہ جس کا سبب ہے وہی ثواب ہوں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.