ہر چند اشک اشک مرا چیختا رہا
ہر چند اشک اشک مرا چیختا رہا
محروم حرف و صوت یہ شہر نوا رہا
گو نغمۂ رباب نظر بے صدا رہا
اک عمر دشت دل میں مگر گونجتا رہا
آئینوں کے ہجوم میں گو میں گھرا رہا
تنہائیوں کی گرد سے چہرہ اٹا رہا
میں تشنگی کی دھوپ میں دن بھر کھڑا رہا
اور خشک جلتے ہونٹوں میں دریا چھپا رہا
فرصت نہ تھی کہ بیٹھ کے کچھ دیر رو بھی لیں
ہر شخص اپنے خواب لیے بھاگتا رہا
کس نے کیا ہے قتل پتہ یہ نہ چل سکے
اخلاص کا نقاب بھی منہ پر پڑا رہا
منظور تھی نہ مجھ کو وہ تجدید لتفات
میرے لئے وہ کھڑکی پہ پہروں کھڑا رہا
منسوب میرے نام سے ہر جرم ہو گیا
مجرم جو تھا وہ سب کی نظر سے چھپا رہا
ہر چند تھے کھلے ہوئے یادوں کے بادباں
پرچھائیوں کے شور میں دل ڈوبتا رہا
کچھ کام آ سکی نہ امیدوں کی آذری
خوابوں کا اک مجسمہ ٹوٹا پڑا رہا
یہ پیار ہو کہ ترک تعلق کی بات ہو
کل عرض مدعا پہ وہ کچھ سوچتا رہا
ڈھالا تھا پتھروں میں کبھی اک حسین خواب
میرے لئے وہ خواب ہی پتھر بنا رہا
رہ رہ کے کوئی دیتا رہا دل پہ دستکیں
شب بھر دیار دل میں عجب رتجگا رہا
الزام اک ہے یہ بھی مری فرد جرم میں
میں قاتلوں کے شہر میں کیوں بے خطا رہا
گلیوں میں ڈھونڈتے رہے جس قتل کا سراغ
اک آستیں پہ واقعہ اس کا لکھا رہا
آیا ادھر نہ کوئی نعیمیؔ تمام رات
باب دیار دیدۂ حیراں کھلا رہا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.