Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہر چند اشک اشک مرا چیختا رہا

عبد الحفیظ نعیمی

ہر چند اشک اشک مرا چیختا رہا

عبد الحفیظ نعیمی

MORE BYعبد الحفیظ نعیمی

    ہر چند اشک اشک مرا چیختا رہا

    محروم حرف و صوت یہ شہر نوا رہا

    گو نغمۂ رباب نظر بے صدا رہا

    اک عمر دشت دل میں مگر گونجتا رہا

    آئینوں کے ہجوم میں گو میں گھرا رہا

    تنہائیوں کی گرد سے چہرہ اٹا رہا

    میں تشنگی کی دھوپ میں دن بھر کھڑا رہا

    اور خشک جلتے ہونٹوں میں دریا چھپا رہا

    فرصت نہ تھی کہ بیٹھ کے کچھ دیر رو بھی لیں

    ہر شخص اپنے خواب لیے بھاگتا رہا

    کس نے کیا ہے قتل پتہ یہ نہ چل سکے

    اخلاص کا نقاب بھی منہ پر پڑا رہا

    منظور تھی نہ مجھ کو وہ تجدید لتفات

    میرے لئے وہ کھڑکی پہ پہروں کھڑا رہا

    منسوب میرے نام سے ہر جرم ہو گیا

    مجرم جو تھا وہ سب کی نظر سے چھپا رہا

    ہر چند تھے کھلے ہوئے یادوں کے بادباں

    پرچھائیوں کے شور میں دل ڈوبتا رہا

    کچھ کام آ سکی نہ امیدوں کی آذری

    خوابوں کا اک مجسمہ ٹوٹا پڑا رہا

    یہ پیار ہو کہ ترک تعلق کی بات ہو

    کل عرض مدعا پہ وہ کچھ سوچتا رہا

    ڈھالا تھا پتھروں میں کبھی اک حسین خواب

    میرے لئے وہ خواب ہی پتھر بنا رہا

    رہ رہ کے کوئی دیتا رہا دل پہ دستکیں

    شب بھر دیار دل میں عجب رتجگا رہا

    الزام اک ہے یہ بھی مری فرد جرم میں

    میں قاتلوں کے شہر میں کیوں بے خطا رہا

    گلیوں میں ڈھونڈتے رہے جس قتل کا سراغ

    اک آستیں پہ واقعہ اس کا لکھا رہا

    آیا ادھر نہ کوئی نعیمیؔ تمام رات

    باب دیار دیدۂ حیراں کھلا رہا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے