در کو دیوار کر لیا میں نے
در کو دیوار کر لیا میں نے
خود سے انکار کر لیا میں نے
جرم سرزد نہیں ہوا کوئی
پھر بھی اقرار کر لیا میں نے
دل محبت میں مبتلا کر کے
غم سے دو چار کر لیا میں نے
دو قدم پر تھیں منزلیں اور پھر
رستہ دشوار کر لیا میں نے
جی میں آیا تو موند لی آنکھیں
تیرا دیدار کر لیا میں نے
دوستو آپ کی نوازش سے
خود کو فنکار کر لیا میں نے
ایک دن خامشی کو ہی امجدؔ
اپنا ہتھیار کر لیا میں نے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.