در گماں رد گماں کہتا رہا
در گماں رد گماں کہتا رہا
خامشی دل ہم زباں کہتا رہا
دائرے کو کھول کر دیکھا نہیں
تیری قربت کو جہاں کہتا رہا
دوراندیشی تھی یا کوتاہ دید
گھر کی چھت کو آسماں کہتا رہا
دشمنوں کی صف میں شامل یار کو
میں ہمیشہ قدرداں کہتا رہا
بد نصیبی میری سن پایا نہیں
وقت اپنی داستاں کہتا رہا
میری قسمت میں جدائی ہے تری
مجھ کو یہ سارا جہاں کہتا رہا
یاد کرنے کی ضرورت ہے بلالؔ
کون کس کو میری جاں کہتا رہا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.