بات بات پر اس کی صاد بے سبب کہیے
بات بات پر اس کی صاد بے سبب کہیے
دن کہے تو دن کہیے شب کہے تو شب کہیے
مصلحت کی چاٹ ایسی لگ گئی زبانوں کو
دیکھتے تو ہیں کب سے سوچتے ہیں کب کہیے
خامشی سمٹ کر بھی دشت ہے سمندر ہے
اور گونجتا بادل ہے کہیں تو اب کہیے
مقتدر بھی کتنا ہے بے خبر بھی کتنا ہے
آدمی کو دھرتی پر آدمی کا رب کہیے
وقت کا تقاضا کیا انتظار فردا کیا
دل سے پوچھ کر کہیے منہ سے کچھ بھی جب کہیے
بے نشاط کیوں گزرے دل سے موج درد اس کے
کتنے خوبصورت ہیں اس کے چشم و لب کہیے
کیا ادب گری گوہرؔ کیا ہنر وری گوہرؔ
گریۂ ہنر کہیے نوحۂ ادب کہیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.