کثرت جلوہ سے چشم شوق کس مشکل میں ہے
کثرت جلوہ سے چشم شوق کس مشکل میں ہے
اتنی شمعیں کب ہیں جتنی روشنی محفل میں ہے
عشق کی دیوانگی طے کر گئی کتنے مقام
عقل جس منزل میں تھی اب تک اسی منزل میں ہے
ایک انداز تبسم میں ہے گم سارا چمن
یہ خبر کس کو کلی کی جان کس مشکل میں ہے
دل نہ ٹھہرے گا تو پھر طوفاں میں لوٹ آئیں گے ہم
دیکھتے ہیں کتنی وسعت دامن ساحل میں ہے
چشم حیراں کو کوئی جلوہ نظر آتا نہیں
دل کی بیتابی یہ کہتی ہے کہ تو محفل میں ہے
دل نہ ہو شامل تو پھر تنہا خروش ساز کیا
وہ تڑپ نغمے میں کب ہے جو شکست دل میں ہے
ہم بھی اے اقبالؔ ہیں گرم سفر کس شان سے
ایک کانٹا پاؤں میں ہے ایک کانٹا دل میں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.