وقت آ پڑا تو صبر کا پیکر بھی بن گئی
وقت آ پڑا تو صبر کا پیکر بھی بن گئی
بعد حسین دین کی رہبر بھی بن گئی
اسلام کو نکال کے جلتے خیام سے
نور نگاہ دین پیمبر بھی بن گئی
عباس بن کے شام غریباں میں اک بہن
ہر ایک کی نگاہ کا محور بھی بن گئی
سیرت بھی فاطمہ کی تھی صورت بھی فاطمہ
اسلام کو بچا کے وہ حیدر بھی بن گئی
آنے لگے تھے زلزلے دربار شام میں
پلٹا جو تخت فاتح خیبر بھی بن گئی
بچوں کی تشنگی کو سنبھالا کچھ اس طرح
بیٹی علی کی ساقیٔ کوثر بھی بن گئی
ایسی نہیں مثال زمانے میں اے ملاذؔ
پیاسی بھی رہ گئی وہ سمندر بھی بن گئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.