Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کہیں تو عشق کی آوارگی کو رنگ ملے

شاعر لکھنوی

کہیں تو عشق کی آوارگی کو رنگ ملے

شاعر لکھنوی

MORE BYشاعر لکھنوی

    کہیں تو عشق کی آوارگی کو رنگ ملے

    دیار‌ گل نہیں ملتا دیار سنگ ملے

    مرے لہو میں نہا کر بہار جب پلٹی

    دھواں دھواں تھے جو چہرے وہ رنگ رنگ ملے

    انہیں سے پوچھئے کیا ہے نزاکت پرواز

    جنہیں زمیں کی طرح آسماں بھی تنگ ملے

    کھڑے ہیں دوست بھی دشمن بھی اب یہ کیا کہئے

    کدھر سے پھول ملے ہیں کدھر سے سنگ ملے

    ورق ورق پہ نمایاں تھی اک نئی تحریر

    حجاب‌ گل میں بھی کتنے حجاب رنگ ملے

    نصیب سب کو کہاں عزت شناسائی

    اٹھا کے سر کو جو گزرے انہی کو سنگ ملے

    سنا ہے راہ میں کانٹوں نے سر اٹھایا ہے

    ہماری آبلہ پائی کو اذن جنگ ملے

    یہ سب غزل کی لطافت کا فیض ہے شاعرؔ

    نئے نئے جو ہمیں سوچنے کے ڈھنگ ملے

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے