Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جوہی کی اس ڈالی سے کوئی کیسے آنکھ ملائے

راہی معصوم رضا

جوہی کی اس ڈالی سے کوئی کیسے آنکھ ملائے

راہی معصوم رضا

MORE BYراہی معصوم رضا

    جوہی کی اس ڈالی سے کوئی کیسے آنکھ ملائے

    جو اپنی خوشبو کے بوجھ سے دہری ہو ہو جائے

    لگتا ہے شہروں میں جنوں کے موسم اب نہیں آتے

    ہم تو صحرا میں بیٹھے ہیں دھوپ کا فرش بچھائے

    سناٹا پیڑوں پر بیٹھا سناٹا ہر چھت پر

    سناٹے سے سب ڈرتے ہیں کون آواز لگائے

    کتنی نیندیں قتل ہوئیں کل شب کے مقتل میں

    صبح کے رخساروں کی سرخی ہی یہ بات بتائے

    جس کے آگے آگے بادل جس کے پیچھے خوشبو

    ہم صحرا والوں تک کوئی وہ موسم لے آئے

    ہم بھی ہیں پردیس میں لیکن رام نہیں ہم راہیؔ

    آئے اور کوئی سمجھا کر ہم کو گھر لے آئے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے