جوہی کی اس ڈالی سے کوئی کیسے آنکھ ملائے
جوہی کی اس ڈالی سے کوئی کیسے آنکھ ملائے
جو اپنی خوشبو کے بوجھ سے دہری ہو ہو جائے
لگتا ہے شہروں میں جنوں کے موسم اب نہیں آتے
ہم تو صحرا میں بیٹھے ہیں دھوپ کا فرش بچھائے
سناٹا پیڑوں پر بیٹھا سناٹا ہر چھت پر
سناٹے سے سب ڈرتے ہیں کون آواز لگائے
کتنی نیندیں قتل ہوئیں کل شب کے مقتل میں
صبح کے رخساروں کی سرخی ہی یہ بات بتائے
جس کے آگے آگے بادل جس کے پیچھے خوشبو
ہم صحرا والوں تک کوئی وہ موسم لے آئے
ہم بھی ہیں پردیس میں لیکن رام نہیں ہم راہیؔ
آئے اور کوئی سمجھا کر ہم کو گھر لے آئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.