جس دن بھی ظلم اپنی حدوں سے گزر گیا
جس دن بھی ظلم اپنی حدوں سے گزر گیا
مظلوم کا نصیب اسی دن سنور گیا
تو خوش تھا مجھ کو ظلم کی بھٹی میں جھونک کر
سونا تھا میں تو اور بھی تپ کر نکھر گیا
ہم ہیں ہماری آنکھ ابھی تک نہیں کھلی
اب تو ہمارے سر سے بھی پانی گزر گیا
ظالم کو میرے صبر پہ کچھ سوچنا پڑا
خاموش رہنا میرا بڑا کام کر گیا
قاتل نے آنکھوں آنکھوں میں منصف سے بات کی
الزام میرے قتل کا میرے ہی سر گیا
اس کے شکستہ حال پہ رب کا کرم تھا یہ
دنیا نوازتی گئی ماہرؔ جدھر گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.