جھکتا ہے منافق بھی عقیدت میں ہماری
جھکتا ہے منافق بھی عقیدت میں ہماری
مل جاتا ہے جب شر بھی شرافت میں ہماری
محشر میں سنائیں گے سخن اپنے خدا کو
یہ زیست تو گزرے گی ریاضت میں ہماری
انصاف کہاں ڈھونڈ رہے ہو مرے لوگو
یہ چیز نہیں ملتی ریاست میں ہماری
سب ہار کے بھی دیکھ کہ ہارے نہیں لگتے
عزت بھی تو بنتی ہے ہزیمت میں ہماری
بازار محبت میں اسے چوٹ لگی جب
وہ لوٹ کے آئے گا حفاظت میں ہماری
تم غور سے پڑھتے تو سمجھتے دل ناداں
سادہ سی دو باتیں تھی عبارت میں ہماری
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.