ہر بلندی میں ہی میری پستی رہی
ہر بلندی میں ہی میری پستی رہی
زندگی میری قسمت پہ ہنستی رہی
مجھ کو جو بھی ملا اک سبق دے گیا
ہر دفعہ گانٹھ پلو میں کستی رہی
رب کی قربت ملی دل کو صبر آ گیا
کرب میں خود سے لڑ کے شکستی رہی
ہر کسی پر لٹاتی رہی شفقتیں
عاطفت کے لیے خود ترستی رہی
سب سمجھنے میں مجھ کو ہی قاصر رہے
اتنی پیچیدہ کیوں میری ہستی رہی
خود بہ خود ختم ان سے تعلق ہوا
فطرتاً جن میں بھی خود پرستی رہی
ادھ کھلے پھول کچلے شکم میں کئی
جان معصوم کی کتنی سستی رہی
گھر امیروں کے آباد ہوتے رہے
بس اجڑتی غریبوں کی بستی رہی
ظالموں کی حمایت میں کیسے کروں
میری خصلت میں ہی حق پرستی رہی
وہ وفا کیا کرے گا کسی سے ثناؔ
مخلصی جس کی اس کو ہی ڈستی رہی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.