Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہر بلندی میں ہی میری پستی رہی

ثنا ہاشمی

ہر بلندی میں ہی میری پستی رہی

ثنا ہاشمی

MORE BYثنا ہاشمی

    ہر بلندی میں ہی میری پستی رہی

    زندگی میری قسمت پہ ہنستی رہی

    مجھ کو جو بھی ملا اک سبق دے گیا

    ہر دفعہ گانٹھ پلو میں کستی رہی

    رب کی قربت ملی دل کو صبر آ گیا

    کرب میں خود سے لڑ کے شکستی رہی

    ہر کسی پر لٹاتی رہی شفقتیں

    عاطفت کے لیے خود ترستی رہی

    سب سمجھنے میں مجھ کو ہی قاصر رہے

    اتنی پیچیدہ کیوں میری ہستی رہی

    خود بہ خود ختم ان سے تعلق ہوا

    فطرتاً جن میں بھی خود پرستی رہی

    ادھ کھلے پھول کچلے شکم میں کئی

    جان معصوم کی کتنی سستی رہی

    گھر امیروں کے آباد ہوتے رہے

    بس اجڑتی غریبوں کی بستی رہی

    ظالموں کی حمایت میں کیسے کروں

    میری خصلت میں ہی حق پرستی رہی

    وہ وفا کیا کرے گا کسی سے ثناؔ

    مخلصی جس کی اس کو ہی ڈستی رہی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے