حق و انصاف کی بے خوف حمایت کی ہے
حق و انصاف کی بے خوف حمایت کی ہے
یہ بغاوت ہے تو ہاں ہم نے بغاوت کی ہے
ایک ناصح جو ہے باطن میں مرے اے ناصح
میں تری کچھ نہ سنوں اس نے نصیحت کی ہے
کر کے تذلیل مرے عشق بتاں کی اے شیخ
تو نے انسان کی فطرت سے بغاوت کی ہے
شوق سے شیخ و برہمن مری تنقید کریں
میں نے باطل کی نہیں حق کی حمایت کی ہے
خواہ کتنے ہی مخالف ہوں خیالات مگر
آج تک میں نے کسی کی نہ مذمت کی ہے
مجھ کو رسوائی کا کچھ خوف نہیں ہے راہیؔ
میں نے عزت نہیں بیچی ہے محبت کی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.