چہرہ بہ چہرہ خواب دکھائی دیے مجھے
چہرہ بہ چہرہ خواب دکھائی دیے مجھے
کیا کیا سکوت تھے کہ سنائی دیے مجھے
کن کن حدوں کی مجھ کو اسیری عطا ہوئی
کیا کیا قفس بنام خدائی دیے مجھے
حق سب کا مانگتا ہوں پر اپنے کسان کو
عمریں گزر گئی ہیں بٹائی دیے مجھے
وہ مجھ سے لڑ رہے تھے کہ میں ماں سے لڑ پڑا
اس نے بھی کس مزاج کے بھائی دیے مجھے
کیا کیا نہ ساتھیوں پہ دھریں اس نے تہمتیں
لیکن بغیر اپنی صفائی دیے مجھے
کوثرؔ وہ کیا خروش تلاطم تھا اس گھڑی
لہجے تو شبنموں کے سنائی دیے مجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.