اب نو خرد جوان ہے الجھا جنون سے
اب نو خرد جوان ہے الجھا جنون سے
تم کو شکست دے گا وہ علم و فنون سے
کھلتی نہیں گرہ جو لگائی ہو وقت نے
بچ کے گزر سکا نہ کوئی اس فسون سے
بیچا ضمیر ہم نے تو اک چیخ سی اٹھی
یہ آخری پکار تھی دل کے درون سے
دھرتی پہ زخم بوئے تھے اگتے کہاں سے گل
مقتل کو ہم نے سینچا ہے اپنے ہی خون سے
ظالم کسی بھی دور کا ہو بھولتا نہیں
دیکھو یزید یاد ہے کتنے قرون سے
صولتؔ ہے کوئی سایہ کہ آسیب شہر پر
سوتے نہیں ہیں لوگ یہاں پر سکون سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.