Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

زمانہ ہو گیا افسانۂ بتاں سنتے

عبد الحفیظ نعیمی

زمانہ ہو گیا افسانۂ بتاں سنتے

عبد الحفیظ نعیمی

MORE BYعبد الحفیظ نعیمی

    زمانہ ہو گیا افسانۂ بتاں سنتے

    اب آرزو ہے کوئی اور داستاں سنتے

    کسی بلال کو لاؤ ہے سرد شعلۂ جاں

    دلوں میں آگ لگا دیتی وہ اذاں سنتے

    بجھا چکا ہوں میں جب حرف و صوت کی شمعیں

    تو چاہتے ہیں تمنائے بے زباں سنتے

    مناتے اب کوئی جشن شکست ہی یارو

    زبان برق سے روداد آشیاں سنتے

    بدن کے گیت بہت گائے بھی سنے بھی ہیں

    کبھی کسی سے حکایات رمز جاں سنتے

    جلائے بیٹھے ہیں ہم کب سے آرزو کے چراغ

    پھر ان سے قصۂ گیسو و کہکشاں سنتے

    رچی ہوئی ہے مرے بازوؤں میں جو اب تک

    کبھی تو پھر سے تم اپنی وہ داستاں سنتے

    میں وہ فغاں ہوں تعاقب میں جس کے پھرتا ہوں

    تمہیں بھی چین نہ پڑتا جو وہ فغاں سنتے

    بہت حسیں تھی نعیمیؔ بہت ہی رنگیں تھی

    کسی سے پھر وہ جوانی کی داستاں سنتے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے