زمانہ ہو گیا افسانۂ بتاں سنتے
زمانہ ہو گیا افسانۂ بتاں سنتے
اب آرزو ہے کوئی اور داستاں سنتے
کسی بلال کو لاؤ ہے سرد شعلۂ جاں
دلوں میں آگ لگا دیتی وہ اذاں سنتے
بجھا چکا ہوں میں جب حرف و صوت کی شمعیں
تو چاہتے ہیں تمنائے بے زباں سنتے
مناتے اب کوئی جشن شکست ہی یارو
زبان برق سے روداد آشیاں سنتے
بدن کے گیت بہت گائے بھی سنے بھی ہیں
کبھی کسی سے حکایات رمز جاں سنتے
جلائے بیٹھے ہیں ہم کب سے آرزو کے چراغ
پھر ان سے قصۂ گیسو و کہکشاں سنتے
رچی ہوئی ہے مرے بازوؤں میں جو اب تک
کبھی تو پھر سے تم اپنی وہ داستاں سنتے
میں وہ فغاں ہوں تعاقب میں جس کے پھرتا ہوں
تمہیں بھی چین نہ پڑتا جو وہ فغاں سنتے
بہت حسیں تھی نعیمیؔ بہت ہی رنگیں تھی
کسی سے پھر وہ جوانی کی داستاں سنتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.