یوں پی رہا ہوں جیسے کوئی پیاس ہی نہیں
یوں پی رہا ہوں جیسے کوئی پیاس ہی نہیں
ساغر ہمارے دل کو ذرا راس ہی نہیں
میں یوں ہی جی رہا ہوں تری کائنات میں
مجھ کو تو زندگی سے کوئی آس ہی نہیں
پیہم تلاش جاری ہے اس دل کی در بدر
یعنی کہ میرا دل ہے مرے پاس ہی نہیں
کیسے لبھے گا وہ بت نازک شب وصال
کیا ڈالیے کہ پاس کوئی گھاس ہی نہیں
حضرت کے پیچھے ہو کے بھی منزل نہیں ملی
کہ گمرہی کا خضر کو احساس ہی نہیں
راز خرد جنوں کی حکایات خوں چکاں
سب کچھ مری غزل میں ہے بکواس ہی نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.