Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہ نہیں وہ دیکھ کر مجھ کو کبھی ٹھٹکا نہ ہو

عبد الحفیظ نعیمی

یہ نہیں وہ دیکھ کر مجھ کو کبھی ٹھٹکا نہ ہو

عبد الحفیظ نعیمی

MORE BYعبد الحفیظ نعیمی

    یہ نہیں وہ دیکھ کر مجھ کو کبھی ٹھٹکا نہ ہو

    یہ الگ ہے بھیڑ میں اس نے مجھے دیکھا نہ ہو

    دیکھ سب کچھ یہ حیا کہہ دے کہیں ایسا نہ ہو

    اتنا ہی شرما کہ لوگوں میں غلط چرچا نہ ہو

    بے ارادہ آپ نے کھولی تھی کھڑکی سب صحیح

    یہ بھی ممکن آپ نے قصداً مجھے دیکھا نہ ہو

    نیند کے انجم کدے سنتے ہیں دلکش ہیں بہت

    لیکن اس کو کیا خبر جو عمر بھر سویا نہ ہو

    دل کہ شعلہ زار تھا اک دن اب ایسا بجھ گیا

    جیسے اب اس راکھ کی تہ میں کوئی شعلا نہ ہو

    آئنے میں اک ہیولیٰ ہی سا آتا ہے نظر

    کیا خبر میں نے ابھی تک خود کو پہچانا نہ ہو

    سہمی امیدوں کی انگلی پکڑے زخمی آرزو

    چڑھتی ہے اس بام پر جس بام کا زینا نہ ہو

    ہل رہے ہیں یاد کی کھڑکی کے سب پردے ابھی

    رات کے پچھلے پہر کوئی یہاں آیا نہ ہو

    ٹوٹ کر بھی اور بڑھتے جاتے ہیں ہر روز بت

    کوئی آذر نفس کے تہہ خانے میں بیٹھا نہ ہو

    باہر اتنا شور و غل ہے ان کی یادوں کا بھی دم

    گھٹ کے رہ جائے اگر دل کا یہ سناٹا نہ ہو

    اور زندانوں کی دیواریں اٹھا لو وقت ہے

    ناخدا احساس کا شاید ابھی جاگا نہ ہو

    جستجو میں تھا مری تو بھی مجھے ایسا لگا

    لے میں خود ہی آ گیا بس اب تو رنجیدہ نہ ہو

    پوچھ کر میری تمنا اور بڑھا دی اک خلش

    یہ بجا ہے آپ کا اس سے کوئی منشا نہ ہو

    زندگی کے بے نشاں ساحل کے خوش باشو کہیں

    دیوتا طوفاں کا کیوپڈ کی طرح اندھا نہ ہو

    عارض گل پر نعیمیؔ آنسوؤں کے یہ نشاں

    کوئی پھولوں سے لپٹ کر رات بھر رویا نہ ہو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے