یہ نہیں وہ دیکھ کر مجھ کو کبھی ٹھٹکا نہ ہو
یہ نہیں وہ دیکھ کر مجھ کو کبھی ٹھٹکا نہ ہو
یہ الگ ہے بھیڑ میں اس نے مجھے دیکھا نہ ہو
دیکھ سب کچھ یہ حیا کہہ دے کہیں ایسا نہ ہو
اتنا ہی شرما کہ لوگوں میں غلط چرچا نہ ہو
بے ارادہ آپ نے کھولی تھی کھڑکی سب صحیح
یہ بھی ممکن آپ نے قصداً مجھے دیکھا نہ ہو
نیند کے انجم کدے سنتے ہیں دلکش ہیں بہت
لیکن اس کو کیا خبر جو عمر بھر سویا نہ ہو
دل کہ شعلہ زار تھا اک دن اب ایسا بجھ گیا
جیسے اب اس راکھ کی تہ میں کوئی شعلا نہ ہو
آئنے میں اک ہیولیٰ ہی سا آتا ہے نظر
کیا خبر میں نے ابھی تک خود کو پہچانا نہ ہو
سہمی امیدوں کی انگلی پکڑے زخمی آرزو
چڑھتی ہے اس بام پر جس بام کا زینا نہ ہو
ہل رہے ہیں یاد کی کھڑکی کے سب پردے ابھی
رات کے پچھلے پہر کوئی یہاں آیا نہ ہو
ٹوٹ کر بھی اور بڑھتے جاتے ہیں ہر روز بت
کوئی آذر نفس کے تہہ خانے میں بیٹھا نہ ہو
باہر اتنا شور و غل ہے ان کی یادوں کا بھی دم
گھٹ کے رہ جائے اگر دل کا یہ سناٹا نہ ہو
اور زندانوں کی دیواریں اٹھا لو وقت ہے
ناخدا احساس کا شاید ابھی جاگا نہ ہو
جستجو میں تھا مری تو بھی مجھے ایسا لگا
لے میں خود ہی آ گیا بس اب تو رنجیدہ نہ ہو
پوچھ کر میری تمنا اور بڑھا دی اک خلش
یہ بجا ہے آپ کا اس سے کوئی منشا نہ ہو
زندگی کے بے نشاں ساحل کے خوش باشو کہیں
دیوتا طوفاں کا کیوپڈ کی طرح اندھا نہ ہو
عارض گل پر نعیمیؔ آنسوؤں کے یہ نشاں
کوئی پھولوں سے لپٹ کر رات بھر رویا نہ ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.