تبھی تو رہ گئے چہرے پہ صرف داغ مرے
تبھی تو رہ گئے چہرے پہ صرف داغ مرے
بجھا کے کوئی روانہ ہوا چراغ مرے
تمہاری کھوج کی ہوتی تھی پیش رفت جدھر
میں بھیج دیتا تھا اس سمت میں سراغ مرے
بلا تو لوں میں ضیافت پہ تجھ کو گھر پہ مگر
کہ پی گیا کوئی کل شب سبھی ایاغ مرے
تجھے خبر ہی نہیں ہے مرے گلاب تری
مہک تلاشنے نکلے ہیں سارے باغ مرے
کہاں کہاں تو مجھے ڈھونڈ پائے گا اخترؔ
مجھے بھی ملتے نہیں اب تو کچھ سراغ مرے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.