نا آشنائے حق ہوں مگر جستجو تو ہے
نا آشنائے حق ہوں مگر جستجو تو ہے
اسرار حق کو جاننے کی آرزو تو ہے
زندہ ہوں اس یقیں کے سہارے کہ میرے پاس
دولت اگر نہیں ہے نہ ہو آبرو تو ہے
میری نظر میں اور کوئی ہو نہ ہو مگر
اس میں کوئی کلام نہیں ہے کہ تو تو ہے
یہ پھول خوشنما تو بظاہر نہیں مگر
اس میں خلوص اور محبت کی بو تو ہے
راہیؔ وہ نغمہ زن ہے سنو طنز مت کرو
شعروں میں لاکھ وزن نہ ہو خوش گلو تو ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.