نہ منزل مل سکی نام و نشاں سے
نہ منزل مل سکی نام و نشاں سے
خلش بڑھتی رہی سوز نہاں سے
ہے کوتاہی نظر کی اپنی ورنہ
زمیں کچھ کم نہیں ہے آسماں سے
فریب جلوۂ رنگیں نہ پوچھو
جھکا ہر دور سنگ آستاں سے
تڑپ جاتا ہے دل برق و شرر سے
خبر آئی نہ اب تک آشیاں سے
چمن کی ہو حنابندی دوبارہ
نہیں امید مجھ کو باغباں سے
فلک کی گردش پیہم تو دیکھو
ملی آنکھیں نہ پھر اس بد گماں سے
خبر اتنی نہیں ہے ہم کو اب تک
چلے تھے ہم کہاں کو اور کہاں سے
متینؔ اپنی سمجھ میں یہ نہ آیا
ملوں کس طرح جا کر جان جاں سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.