مجھے خبر ہے مری شان جستجو کیا ہے
مجھے خبر ہے مری شان جستجو کیا ہے
وہ اس لئے کہ میں یہ جانتا ہوں تو کیا ہے
خدا پہ تیرا اجارہ نہیں ہے شیخ حرم
تو پھر بتا کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے
نگاہ شوق نے سب کچھ بتا دیا ان کو
زباں نے لاکھ چھپایا کہ آرزو کیا ہے
تجھی کو سونپ دیا ہے تری تلاش کا غم
تو ہی بتا کہ تری راہ جستجو کیا ہے
ہزار شیخ و برہمن فریب دیں لیکن
میں جانتا ہوں کہ میں کیا ہوں اور تو کیا ہے
ضمیر میں جو غلاظت ہے اس کو دھوئے شیخ
وگرنہ مجھ کو بتا مقصد وضو کیا ہے
جناب شیخ کی توہین ہو جہاں راہیؔ
وہاں بتاؤ برہمن کی آبرو کیا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.