جستجوئے نظر کی کوئی حد بھی ہے اب کہاں آرزوئے سفر جائے گی
جستجوئے نظر کی کوئی حد بھی ہے اب کہاں آرزوئے سفر جائے گی
چاند تارے بھی گرد سفر ہو گئے اب جنوں کی سواری کدھر جائے گی
شبنمی رات ڈھلتی ہے ڈھلنے تو دو کھل اٹھے گا چمن رت بدلنے تو دو
صبح روشن کا سورج نکلنے تو دو ہر کلی پھول بن کر نکھر جائے گی
اے اسیرو اٹھو آہ و نالہ کرو جور صیاد کا کچھ تو چرچا کرو
شور طوق و سلاسل ہی برپا کرو کچھ نہ کچھ تو چمن تک خبر جائے گی
میکدے میں بھی تفریق ہوتی ہے اب اک طرف بادہ کش اک طرف تشنہ لب
ساقیٔ کم نظر اب خدا جانے کب تشنہ کاموں پہ تیری نظر جائے گی
گیسوئے وقت ہم ہیں سنوارو ہمیں زیست کے پیچ و خم ہیں سنوارو ہمیں
پیکر رنج و غم ہیں سنوارو ہمیں ہم جو سنورے تو دنیا سنور جائے گی
ظلمت شب سے اے دل حراساں نہ ہو تارے گن گن کے ناحق پریشاں نہ ہو
لاکھ بھاری سہی رات پھر رات ہے خود گزرتے گزرتے گزر جائے گی
وہ سخن کیا نہ ہو جس میں کوئی اثر بات کیا جو نہ ہو خوب سے خوب تر
مضطرؔ کم سخن ڈوب کے فکر کر تیری ہر بات دل میں اتر جائے گی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.