Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جستجوئے نظر کی کوئی حد بھی ہے اب کہاں آرزوئے سفر جائے گی

مضطر حیدری

جستجوئے نظر کی کوئی حد بھی ہے اب کہاں آرزوئے سفر جائے گی

مضطر حیدری

MORE BYمضطر حیدری

    جستجوئے نظر کی کوئی حد بھی ہے اب کہاں آرزوئے سفر جائے گی

    چاند تارے بھی گرد سفر ہو گئے اب جنوں کی سواری کدھر جائے گی

    شبنمی رات ڈھلتی ہے ڈھلنے تو دو کھل اٹھے گا چمن رت بدلنے تو دو

    صبح روشن کا سورج نکلنے تو دو ہر کلی پھول بن کر نکھر جائے گی

    اے اسیرو اٹھو آہ و نالہ کرو جور صیاد کا کچھ تو چرچا کرو

    شور طوق و سلاسل ہی برپا کرو کچھ نہ کچھ تو چمن تک خبر جائے گی

    میکدے میں بھی تفریق ہوتی ہے اب اک طرف بادہ کش اک طرف تشنہ لب

    ساقیٔ کم نظر اب خدا جانے کب تشنہ کاموں پہ تیری نظر جائے گی

    گیسوئے وقت ہم ہیں سنوارو ہمیں زیست کے پیچ و خم ہیں سنوارو ہمیں

    پیکر رنج و غم ہیں سنوارو ہمیں ہم جو سنورے تو دنیا سنور جائے گی

    ظلمت شب سے اے دل حراساں نہ ہو تارے گن گن کے ناحق پریشاں نہ ہو

    لاکھ بھاری سہی رات پھر رات ہے خود گزرتے گزرتے گزر جائے گی

    وہ سخن کیا نہ ہو جس میں کوئی اثر بات کیا جو نہ ہو خوب سے خوب تر

    مضطرؔ کم سخن ڈوب کے فکر کر تیری ہر بات دل میں اتر جائے گی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے