Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

حوصلہ شوق کا کوئی تو نکالا جائے

عبد الحفیظ نعیمی

حوصلہ شوق کا کوئی تو نکالا جائے

عبد الحفیظ نعیمی

MORE BYعبد الحفیظ نعیمی

    حوصلہ شوق کا کوئی تو نکالا جائے

    سایۂ گل میں کہیں بیٹھ کے رویا جائے

    جانے ڈوبے ملیں صدیوں کے سفینے کتنے

    دل سمندر ہے کسی روز کھنگالا جائے

    زندگی کا نظر آ جائے کوئی رخ شاید

    اک دیا دوش ہوا پر ہی جلایا جائے

    کرب کی آگ میں ہر شخص ہوا بے چہرہ

    کون سے نام سے اب کس کو پکارا جائے

    ہے شرابور تری یاد کی بارش سے بدن

    دھوپ رخسار کی نکلے تو سکھایا جائے

    نہیں وہ جسم نگاہوں کے مقدر میں نہ ہو

    چاندنی کو ہی کسی سانچے میں ڈھالا جائے

    تپتے صحرا میں ملے گا کوئی سایہ بھی کہیں

    سب تو ہیں دھوپ میں اب کس سے یہ پوچھا جائے

    سفر تشنہ لبی ختم تو آخر ہو کبھی

    آگ بن کر ہی کسی دشت پہ برسا جائے

    کیوں سکوت شب مے خانہ صدا کو ترسے

    گر نہیں جام تو دل ہی کوئی توڑا جائے

    کون بیٹھا ہوا بنتا ہے یہ گرداب کے جال

    کسی دریا میں کبھی ڈوب کے دیکھا جائے

    دشت میں تو نہ ملا لوٹنے والا کوئی

    ایک دو روز کسی شہر میں ٹھہرا جائے

    رات تو آگ کے صحرا کا سفر تھا جیسے

    صبح کی سولی پہ کچھ دیر تو سویا جائے

    حادثوں کے گھنے جنگل میں کسی کو بھیجو

    کچھ نعیمیؔ کا پتہ بھی تو لگایا جائے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے