حوصلہ شوق کا کوئی تو نکالا جائے
حوصلہ شوق کا کوئی تو نکالا جائے
سایۂ گل میں کہیں بیٹھ کے رویا جائے
جانے ڈوبے ملیں صدیوں کے سفینے کتنے
دل سمندر ہے کسی روز کھنگالا جائے
زندگی کا نظر آ جائے کوئی رخ شاید
اک دیا دوش ہوا پر ہی جلایا جائے
کرب کی آگ میں ہر شخص ہوا بے چہرہ
کون سے نام سے اب کس کو پکارا جائے
ہے شرابور تری یاد کی بارش سے بدن
دھوپ رخسار کی نکلے تو سکھایا جائے
نہیں وہ جسم نگاہوں کے مقدر میں نہ ہو
چاندنی کو ہی کسی سانچے میں ڈھالا جائے
تپتے صحرا میں ملے گا کوئی سایہ بھی کہیں
سب تو ہیں دھوپ میں اب کس سے یہ پوچھا جائے
سفر تشنہ لبی ختم تو آخر ہو کبھی
آگ بن کر ہی کسی دشت پہ برسا جائے
کیوں سکوت شب مے خانہ صدا کو ترسے
گر نہیں جام تو دل ہی کوئی توڑا جائے
کون بیٹھا ہوا بنتا ہے یہ گرداب کے جال
کسی دریا میں کبھی ڈوب کے دیکھا جائے
دشت میں تو نہ ملا لوٹنے والا کوئی
ایک دو روز کسی شہر میں ٹھہرا جائے
رات تو آگ کے صحرا کا سفر تھا جیسے
صبح کی سولی پہ کچھ دیر تو سویا جائے
حادثوں کے گھنے جنگل میں کسی کو بھیجو
کچھ نعیمیؔ کا پتہ بھی تو لگایا جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.