Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دیکھنا رسم محبت کا ادا ہو جانا

جلیل حشمی

دیکھنا رسم محبت کا ادا ہو جانا

جلیل حشمی

MORE BYجلیل حشمی

    دیکھنا رسم محبت کا ادا ہو جانا

    میری آغوش کا سولی پہ بھی وا ہو جانا

    کبھی کیسے نظر آنا کبھی کیا ہو جانا

    باور آیا ہمیں انساں کا خدا ہو جانا

    اس سے پہلے کبھی شاید کہ یہ رت آئی ہو

    قد میں سبزے کا درختوں سے بڑا ہو جانا

    زندگی تیرے مقامات کڑے ہیں کتنے

    اپنے دروازے پہ بھی آ کے گدا ہو جانا

    اس نے پامال کیا ہے تو شکایت کیسی

    مجھ کو معلوم ہے مٹی کا ہرا ہو جانا

    مدتوں بعد تو آئے ہو کوئی بات کرو

    مان لو پھر کسی فرصت میں خفا ہو جانا

    پیڑ کے سائے میں بیٹھا ہوں مگر جانتا ہوں

    شاخ سے ٹوٹ کے پتے کا جدا ہو جانا

    لوگ کہتے ہیں کہ راہوں میں جل اٹھتے ہیں دیئے

    تم کسی شام ادھر سے بھی ذرا ہو جانا

    دشت غربت ہی پہ موقوف نہیں اب حشمیؔ

    اپنی گلیوں میں پھرو آبلہ پا ہو جانا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے