بارے الفت کے جز خطا کیا ہے
بارے الفت کے جز خطا کیا ہے
آخر اس جرم کی سزا کیا ہے
قتل کرتا ہے کس سلیقے سے
خنجر حسن میں ادا کیا ہے
ہم پہ وہ جن کا جبر گزرا ہے
پوچھتے ہیں ہمیں ہوا کیا ہے
بات بنتی ہو اس بنا پہ گر
گالیاں کھانے میں برا کیا ہے
ہم وہی تم وہی وہی شکوہ
سب تماشہ وہی نیا کیا ہے
چھوڑتے ہو نہ ساتھ رکھتے ہو
چاہتے کیا ہو مدعا کیا ہے
اشک ٹھہرے ہوئے ہیں آنکھوں میں
آج اس ابر کو ہوا کیا ہے
عشق نے کر دیا چراغ آخر
کیا کہیں اب کہ بد دعا کیا ہے
کس لیے ہے یہ ہاؤ ہو آخر
کیا سمجھ آ گیا خدا کیا ہے
ہر تمنا تمامؔ ہو جائے
گر سمجھ آئے فلسفہ کیا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.