اپنا جسے سمجھتا تھا وہ بھی مرا نہ تھا
اپنا جسے سمجھتا تھا وہ بھی مرا نہ تھا
یہ ایسا حادثہ تھا جو دیکھا سنا نہ تھا
کتنی شدید دھوپ ہے احساس اب ہوا
تھا سر پہ سائبان تو کچھ بھی پتہ نہ تھا
واللہ حسن شوق کہ مکتوب یار میں
وہ بھی پڑھا ہے میں نے جو اس نے لکھا نہ تھا
موضوع غم پہ کرتا تھا دن رات گفتگو
وہ شخص جس کا غم سے کوئی واسطہ نہ تھا
طوفاں کا سینہ چیر کے ساحل پہ آ گئیں
وہ کشتیاں بھی جن کا کوئی ناخدا نہ تھا
دن رات جن کو پانے کی کرتے تھے جستجو
وہ مل گئے تو ہم کو ہمارا پتہ نہ تھا
مقبول کیسے ہوتیں یہ رسمی عبادتیں
سر ہی جھکا تھا سجدے میں دل تو جھکا نہ تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.