زندہ رہتے بھی ہیں یا ایسے ہی مر جاتے ہیں
زندہ رہتے بھی ہیں یا ایسے ہی مر جاتے ہیں
تیرے ٹھکرائے ہوئے لوگ کدھر جاتے ہیں
واپسی کی کوئی امید نہ رکھنا ان سے
وہ جو احساس کے لاشے سے گزر جاتے ہیں
زندگی تو نے ٹھکانے پہ لگا رکھا ہے
تیری ٹھوکر سے ہی ہم لوگ سدھر جاتے ہیں
یوں تو قدرت نے بنایا ہے انہیں ڈھیر حسیں
دیکھ لیں ہم تو وہ کچھ اور سنور جاتے ہیں
ہم ہوئے جاتے ہیں مائل یوں تمہاری جانب
تم کو کھونے کے تصور سے بھی ڈر جاتے ہیں
ان کی آمد کی خوشی ہے تو اداسی بھی ہے
وصل کے لمحے بہت تیز گزر جاتے ہیں
دل کی دنیا میں اداسی کے سوا کچھ بھی نہیں
رات ہوتی ہے تو اوسان بکھر جاتے ہیں
کتنے کم ظرف ہیں الماسؔ زمانے والے
آ کے منزل پہ محبت سے مکر جاتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.