Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

زندہ رہتے بھی ہیں یا ایسے ہی مر جاتے ہیں

الماس زینب رضوی

زندہ رہتے بھی ہیں یا ایسے ہی مر جاتے ہیں

الماس زینب رضوی

MORE BYالماس زینب رضوی

    زندہ رہتے بھی ہیں یا ایسے ہی مر جاتے ہیں

    تیرے ٹھکرائے ہوئے لوگ کدھر جاتے ہیں

    واپسی کی کوئی امید نہ رکھنا ان سے

    وہ جو احساس کے لاشے سے گزر جاتے ہیں

    زندگی تو نے ٹھکانے پہ لگا رکھا ہے

    تیری ٹھوکر سے ہی ہم لوگ سدھر جاتے ہیں

    یوں تو قدرت نے بنایا ہے انہیں ڈھیر حسیں

    دیکھ لیں ہم تو وہ کچھ اور سنور جاتے ہیں

    ہم ہوئے جاتے ہیں مائل یوں تمہاری جانب

    تم کو کھونے کے تصور سے بھی ڈر جاتے ہیں

    ان کی آمد کی خوشی ہے تو اداسی بھی ہے

    وصل کے لمحے بہت تیز گزر جاتے ہیں

    دل کی دنیا میں اداسی کے سوا کچھ بھی نہیں

    رات ہوتی ہے تو اوسان بکھر جاتے ہیں

    کتنے کم ظرف ہیں الماسؔ زمانے والے

    آ کے منزل پہ محبت سے مکر جاتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے