یہ فرد جرم ہے مجھ پر کہ اس سے پیار کرتا ہوں
یہ فرد جرم ہے مجھ پر کہ اس سے پیار کرتا ہوں
میں اس الزام سے فی الحال تو انکار کرتا ہوں
جھٹک دیتا ہے خواب وصل کا ہر رنگ آنکھوں سے
یہ کوشش کیا کہوں ہر روز کتنی بار کرتا ہوں
سبھی حیران ہیں کیا تھا وہ سمجھوتہ جدائی کا
نہ وہ اعلان کرتا ہے نہ میں اظہار کرتا ہوں
مری آنکھوں میں پھر جاتی ہے صورت ہو بہ ہو اس کی
میں اس کے دیکھنے والوں کا جب دیدار کرتا ہوں
عجب کیا ہے اگر گھاٹا پڑا مجھ کو محبت میں
یہ کاروبار ہے اور میں یہ کاروبار کرتا ہوں
ظفرؔ تصویر ہو سکتی ہے کب نعم البدل اس کا
کوئی پوچھے یہ میں کس چیز پر اصرار کرتا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.