Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وہ شمع جو بل کھائی وہ ایک نظارہ تھا

نورین فیض آبادی

وہ شمع جو بل کھائی وہ ایک نظارہ تھا

نورین فیض آبادی

MORE BYنورین فیض آبادی

    وہ شمع جو بل کھائی وہ ایک نظارہ تھا

    جو ٹوٹ کے بکھرا ہے وہ خواب ہمارا تھا

    اس پھول کی خوشبو کو کس طرح بھلاؤں میں

    سانسوں میں بسایا تھا لفظوں میں اتارا تھا

    ہر ایک کرن دل پر بجلی سی گراتی تھی

    اک چاند کے پہلو میں دریا کا کنارا تھا

    یونہی نہیں ہلتے ہیں شاخوں پہ ہرے پتے

    زلفوں کا جھٹکنا بھی قربت کا اشارا تھا

    دنیا نے نہ جانے کیوں دونوں کو الگ رکھا

    لیلیٰ بھی کنواری تھی مجنوں بھی کنوارا تھا

    اس پار اترنے کی کرتا میں سعی کیسے

    دریا میں تلاطم تھا کشتی میں شرارہ تھا

    سب ہاتھ میں تیرے ہے جو چاہے عطا کر دے

    جینا بھی گوارا تھا مرنا بھی گوارا تھا

    ہر خار کو چوما ہے پلکوں سے اٹھایا ہے

    نورینؔ محبت میں دامن بھی پسارا تھا

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے