روداد شب ہجر اسے کہہ بھی سکوں گا
روداد شب ہجر اسے کہہ بھی سکوں گا
معلوم نہیں اب کہ یہ غم سہ بھی سکوں گا
جب عشق کیا تھا تو یہ سوچا بھی نہیں تھا
قطرہ ہوں میں دریا کی طرح بہ بھی سکوں گا
وہ کوئی بھی عالم ہو وہ کوئی بھی جگہ ہو
میں اس سے جدا ہو کے کہیں رہ بھی سکوں گا
ہم ایک ہی بستی میں ہیں پر جیسے نہیں ہیں
اس صورت حالات کو میں سہ بھی سکوں گا
آئینہ مقابل میں ہے اور کہتا ہوں خود سے
جو بیت گئی مجھ پہ اسے کہہ بھی سکوں گا
شہرتؔ دل بے تاب کی حالت کو غزل میں
بیٹھا تو ہوں کہنے کو مگر کہہ بھی سکوں گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.