لمحہ خوشی کا غم کی ردا میں لپٹ گیا
لمحہ خوشی کا غم کی ردا میں لپٹ گیا
کچھ یوں بھی زندگی سے مرا دل اچٹ گیا
باقی رہے نہ شیریں و فرہاد لیلیٰ قیس
دور جہاں میں عشق کا معیار گھٹ گیا
شہری ترقیوں کی خوشی تو ہوئی مگر
سڑکیں ہوئیں جو پختہ مرا گاؤں کٹ گیا
ان بھائیوں کے بیچ رہی اتنی رنجشیں
گاؤں کا میرا گھر کئی حصوں میں بٹ گیا
ساری دعائیں کن کی ترے منتظر رہیں
اور آخرش یہ سال بھی حسرت میں کٹ گیا
اک وقت تھا کہ قہقہوں سے گونجتا تھا گھر
پھر یوں ہوا کہ زیست کا نقشہ پلٹ گیا
الماسؔ زندگی جو یہ ویران ہو گئی
مضبوط اک شجر تھا جو راہوں سے کٹ گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.