کیوں تجھے ڈر ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گی
کیوں تجھے ڈر ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گی
میں تو نکہتؔ ہوں فضاؤں میں بکھر جاؤں گی
ساری دنیا سے کٹی ہوں تجھے پانے کے لئے
تو نے ٹھکرا دیا مجھ کو تو کدھر جاؤں گی
تو مرے حال پریشاں سے پریشان نہ ہو
لمس پا کر تری خوشبو کا نکھر جاؤں گی
فون پر پوچھے گا کیسی ہو تو کہہ دوں گی کہ خوش
میں فقط اس کی تسلی کو مکر جاؤں گی
میں کوئی چاند نہیں ہوں کہ چھپا لوں چہرہ
میں ہوں ہمراہیٔ شب تا بہ سحر جاؤں گی
وعدۂ ترک تعلق کو کروں گی ایفا
ترے خوابوں سے دبے پاؤں گزر جاؤں گی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.