کس نے مری ادا کو یوں اچھی ادا کہا
کس نے مری ادا کو یوں اچھی ادا کہا
یہ کون ہے کہ جس نے مجھے خوشنما کہا
تب آپ میرے صبر کا عالم نہ پوچھیے
جب اس نے سب کے آگے مجھے بے وفا کہا
یہ کیسا امتحاں ہے کہ مقتل کے سامنے
لوگوں نے میرے صبر کو جھوٹی ادا کہا
مجھ کو ہی میری موت کا باعث بنا دیا
منصف نے اس کے قتل کو قتل خطا کہا
دل یہ ہوا کہ خود کو میں ٹکڑوں میں بانٹ دوں
جس روز آپ نے مجھے خود سے جدا کہا
اردمؔ جو آگ سینے میں اک عمر تک جلی
اس کو کسی نے عشق کسی نے خطا کہا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.