خوشی ایک پل بھی نہیں میں نے پائی
خوشی ایک پل بھی نہیں میں نے پائی
نہ راس آ سکی مجھ کو تیری جدائی
مجھے گدگداتا ہے تیرا تصور
وہ تیرے اشارے وہ دست حنائی
نشہ آج تک اس کا اترا نہیں ہے
جو تو نے شراب محبت پلائی
تصور میں ابھرا ترا چاند چہرہ
اندھیرے میں جیسے کرن مسکرائی
جہاں سے بھی گزرے ہو تم جان جاناں
وہی رہ گزر چاندنی میں نہائی
طرب ناک محفل رہی سونی سونی
ملاقات میں بھی تھا خوف جدائی
چمن میں بہاریں بہت آئیں جذبیؔ
الم آشنا دل میں رونق نہ آئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.