جاتے جاتے مری چاہت کا صلہ دے جانا
جاتے جاتے مری چاہت کا صلہ دے جانا
اک نشانی کی طرح کوئی دغا دے جانا
ایک ٹھوکر سے وہ سب ٹوٹ گئے تھے کیسے
طبع سادہ نے جنہیں ٹھوس ارادے جانا
میرا ہر زخم بہاروں کا مقدر ٹھہرے
سرخ کاغذ پہ کوئی نقش ہرا دے جانا
سرد مہری سے ٹھٹھر جاؤ گے اے دیدہ ورو
اس کی محفل میں پہن گرم لبادے جانا
گنگنائے جو غزل دشت میں آصف ثاقبؔ
داد کا پھول کبھی آ کے صبا دے جانا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.