Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

حدود ضبط سے آگے بھی جا نہیں سکتا

ماہر سیوہاروی

حدود ضبط سے آگے بھی جا نہیں سکتا

ماہر سیوہاروی

MORE BYماہر سیوہاروی

    حدود ضبط سے آگے بھی جا نہیں سکتا

    مگر جو گزری ہے مجھ پر بتا نہیں سکتا

    ترے وجود کو بخشی ہے دلکشی میں نے

    بچھڑ کے مجھ سے تو خود کو بھی پا نہیں سکتا

    ہزاروں تیر تو ان کی کماں سے آئے ہیں

    زباں پہ نام بھی جن کا میں لا نہیں سکتا

    اسی کو لوگ مرا ہم سفر سمجھتے ہیں

    جو دو قدم بھی مرے ساتھ آ نہیں سکتا

    مرے وجود میں پیوست ہیں تری یادیں

    ترا خیال مرے دل سے جا نہیں سکتا

    جو زخم تم نے دیئے تھے وہی ہرے ہیں ابھی

    میں اور کوئی نیا زخم کھا نہیں سکتا

    میں اپنے حال پہ اس درجہ ہنس چکا ماہرؔ

    ترا لطیفہ بھی مجھ کو ہنسا نہیں سکتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے