چاہے اک پل کا سہی ساتھ گوارا کر لو
چاہے اک پل کا سہی ساتھ گوارا کر لو
پھر کوئی غم نہیں گر ہم سے کنارا کر لو
میرا حصہ ہے محبت تو ادا نقد کرو
گر نہیں بس میں تو نفرت ہی خدارا کر لو
کون کہتا ہے کہ لازم انہیں تعبیر بھی دو
میرے خوابوں کو بس آنکھوں میں گوارا کر لو
گر نہیں اور وجہ کوئی شناسائی کی
اک محبت ہے وہی پھر سے دوبارا کر لو
پھر کہاں اور کسی کا وہ کبھی ہو پایا
جس پہ اک بار یہاں تم جو اجارا کر لو
مانا مشکل ہے مرا تم سے بچھڑ کر جینا
ساتھ میں تو ہوں ترے تم تو گزارا کر لو
دم نکل جائے گا یوں ہی مرا ہنستے ہنستے
اک نظر میری طرف ہنس کے اشارا کر لو
ہم نہیں وہ کہ جو لے جائیں گے منزل کی طرف
یہی بہتر ہے کوئی اور ستارا کر لو
ایک ہی شخص کی چاہت میں بھلا کیا مرنا
بے وفائی کو ہی جینے کا سہارا کر لو
جب کبھی باندھا ہے ابرکؔ نے یہاں رخت سفر
دل مچلتا ہے ذرا اور نظارہ کر لو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.