بے سبب ہونے لگی جگ میں ہنسائی میری
بے سبب ہونے لگی جگ میں ہنسائی میری
کام آئی نہ مرے حق میں صفائی میری
آشنا ہو کے بھی انجان بنے پھرتے ہیں
بھول جاتے ہیں سب اک پل میں بھلائی میری
مجھے معلوم ہے میں غیر ضروری سی ہوں
راس آئے گی یہاں سب کو جدائی میری
زہر ثابت ہوا وہ میرے لیے جانے کیوں
میں سمجھتی تھی اسے وہ ہے دوائی میری
اپنے پیاروں کو میں کر سکتی نہیں شرمندہ
اس لیے بچ گئی کٹنے سے کلائی میری
ایروں غیروں نے تو اکثر ہی سراہا ہے مجھے
میرے محسن ہی کریں اب تو برائی میری
دھوکے دیتے ہیں مجھے وہ جو وفا کے بدلے
ایسے ہی لوگوں تلک ہوگی رسائی میری
زخم سینے کے ابھر آئے ہیں رخ پر میرے
اس نے کیا سوچ کے تصویر بنائی میری
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.