آج بھی مجھ کو یوں لگتا ہے
آج بھی مجھ کو یوں لگتا ہے
جیسے آج تجھے دیکھا ہے
تیری جدائی یوں کاٹی ہے
سال اک پل میں بیت گیا ہے
تیرا ملنا تیرا بچھڑنا
اک سپنا تھا اک سپنا ہے
دن جو تیرے پاس گزارا
وہ دن ابھی نہیں گزرا ہے
شام کا وہ آوارہ جھونکا
آج بھی گلیوں میں پھرتا ہے
رات کی رانی کی خوشبو کا
جادو بھی اب تک پھیلا ہے
اب تک جیسے میری زباں پر
تیرے لبوں کا پھول کھلا ہے
اب تک میرے ہاتھ میں جیسے
تیرے ہاتھ کا گلدستہ ہے
پربت پر بادل کی برکھا
وادی میں جنگل مہکا ہے
اب تک کشتی ڈول رہی ہے
اب تک وہ دریا بہتا ہے
اب تک پتھر لڑھک رہے ہیں
اب تک چشمہ ابل رہا ہے
آج تو مجھ کو یوں لگتا ہے
تو نے مجھ کو یاد کیا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.