ٹھہرا تو ایک سنگ گراں بار جسم تھا
ٹھہرا تو ایک سنگ گراں بار جسم تھا
ورنہ ہوا سے اپنا سبک سار جسم تھا
آندھی اٹھی تو خاک کا تودہ لرز گیا
دریا چڑھا تو ریت کی دیوار جسم تھا
اندر سلگ رہا تھا دھوئیں میں کوئی کھنڈر
باہر سے ورنہ مصر کا بازار جسم تھا
سورج کی تابناک حرارت کے باوجود
سائے کی تیرگی میں گرفتار جسم تھا
پیش آئے ہر قدم پہ مجھے سخت مرحلے
بیمار روح تھی کبھی بیمار جسم تھا
روشن تمام رات رہا چاند کی طرح
تاریکیوں میں مطلع انوار جسم تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.