یوں میری خامیوں سے حسد کر رہے ہو کیوں
یوں میری خامیوں سے حسد کر رہے ہو کیوں
تم ایسے اختلاف کی حد کر رہے ہو کیوں
لگتا ہے ڈھونڈتے ہو جنوں کا جواز تم
یوں امتیاز عشق و خرد کر رہے ہو کیوں
سوچو اگر تو اس میں بھلا ہے تمہارا بھی
بے وجہ میری بات کو رد کر رہے ہو کیوں
پڑتا ہو جن سے ماند نگار غزل کا حسن
ایسی روایتوں کو سند کر رہے ہو کیوں
جو باغبان ہے ہی نہیں اس کی نذر تم
گلہائے تازہ تر کی سبد کر رہے ہو کیوں
یہ سب تو ہیں تمہارے مقدر کی راحتیں
تم میرے نام اپنی رسد کر رہے ہو کیوں
رب ہنر سے جاؤ کرو تم شکایتیں
عدنانؔ سے تم اتنا حسد کر رہے ہو کیوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.