Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یوں میری خامیوں سے حسد کر رہے ہو کیوں

عدنان خالد

یوں میری خامیوں سے حسد کر رہے ہو کیوں

عدنان خالد

MORE BYعدنان خالد

    یوں میری خامیوں سے حسد کر رہے ہو کیوں

    تم ایسے اختلاف کی حد کر رہے ہو کیوں

    لگتا ہے ڈھونڈتے ہو جنوں کا جواز تم

    یوں امتیاز عشق و خرد کر رہے ہو کیوں

    سوچو اگر تو اس میں بھلا ہے تمہارا بھی

    بے وجہ میری بات کو رد کر رہے ہو کیوں

    پڑتا ہو جن سے ماند نگار غزل کا حسن

    ایسی روایتوں کو سند کر رہے ہو کیوں

    جو باغبان ہے ہی نہیں اس کی نذر تم

    گلہائے تازہ تر کی سبد کر رہے ہو کیوں

    یہ سب تو ہیں تمہارے مقدر کی راحتیں

    تم میرے نام اپنی رسد کر رہے ہو کیوں

    رب ہنر سے جاؤ کرو تم شکایتیں

    عدنانؔ سے تم اتنا حسد کر رہے ہو کیوں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے