چمن میں حسن کی دیکھی وہ دل کشی میں نے
چمن میں حسن کی دیکھی وہ دل کشی میں نے
نگاہ شوق سے چومی کلی کلی میں نے
جوانیوں کے حسیں پیکروں کی یورش تھی
تڑپ کے جھونک دی شعلوں میں زندگی میں نے
ہنسی کو ناز خوشی کو غرور ہے تو رہے
غم و الم سے بڑھا لی ہے دوستی میں نے
مصیبتوں کی فراوانیوں سے گھبرا کر
الہٰی توبہ اندھا دھند شراب پی میں نے
وطن سے دور اذیت کے خارزاروں میں
تڑپ تڑپ کے گزاری ہے زندگی میں نے
سنے ہیں طعنے بھی فقرے بھی طنز بھی ہنس کر
تمام زہر پیے ہیں خوشی خوشی میں نے
تعلقات کی کڑیاں بنیں جو ننگ وفا
دیا وہ جھٹکا کہ زنجیر توڑ دی میں نے
چراغ صبر جلا کر سیاہ راتوں میں
غریب خانے میں کر لی ہے روشنی میں نے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.