سرخ رو ہم ہوئے وفا کر کے
سرخ رو ہم ہوئے وفا کر کے
یوں ہی تم خوش رہو جفا کر کے
بڑھ گیا اور بھی جنوں اپنا
کچھ نہ حاصل ہوا دوا کر کے
کیا رکھیں ہم امید رہبر سے
چل دیا ہم کو خستہ پا کر کے
خون ہوتا رہا تمنا کا
بے وفا تیرا آسرا کر کے
صبر کر صبر اے دل ناداں
آبرو جائے گی گلا کر کے
آئے تھے چارہ سازیٔ دل کو
جاتے ہیں درد دل سوا کر کے
کیا انہیں مل گئی بقائے دوام
جو ہوئے خوش ہمیں فنا کر کے
آدمی اے متینؔ دنیا میں
قدر کھوتا ہے التجا کر کے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.