Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہ لوگ جبر پہ کرتے جو احتجاج نہیں

محمد اسلم رضا خواجہ

یہ لوگ جبر پہ کرتے جو احتجاج نہیں

محمد اسلم رضا خواجہ

MORE BYمحمد اسلم رضا خواجہ

    یہ لوگ جبر پہ کرتے جو احتجاج نہیں

    سو ان سے اس لیے ملتا مرا مزاج نہیں

    جو سچ بتائے وہ پاگل بتایا جاتا ہے

    یہاں پہ حق کو سمجھنے کا اب رواج نہیں

    غنیم شہر کو معلوم ہی نہیں کہ مجھے

    بجز خدا کے کسی کا بھی احتیاج نہیں

    سماج کیا ہے مرے آپ کے رویے ہیں

    برے تو لوگ ہیں بھائی برا سماج نہیں

    ہمیں تو مسند عشق و وفا عطا ہوئی ہے

    ہمارے ذہن پہ چھائے یہ تخت و تاج نہیں

    سبھی کو ذہنی غلامی کا ایک ٹیومر ہے

    مرض تو کافی پرانا ہے لا علاج نہیں

    یہ سادہ بات بتانے میں کیا تأمل ہے

    وہ میرے کل میں نہیں ہے میں جس کا آج نہیں

    کبھی کبھار میں سوچوں تو کانپ اٹھتا ہوں

    زمیں خدا کی ہے لیکن خدا کا راج نہیں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے