خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا
خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا
اس کو آنکھوں میں سمو لینے کا موقع ہی نہ تھا
اس کو کہتے ہیں اے یاد یار جبر زندگی
ہم کو تیرے ساتھ ہو لینے کا موقع ہی نہ تھا
جو توقع دنیا کر لیتی تھی بن جاتے تھے ہم
یعنی اپنا آپ ہو لینے کا موقع ہی نہ تھا
ماندگاں نگراں تھے اپنی سمت امیدیں لیے
رفتگاں جاتے تھے رو لینے کا موقع ہی نہ تھا
تیز گام اتنا تھا اپنا شوق بس چلتے رہے
تھے شجر ہر جا پہ سو لینے کا موقع ہی نہ تھا
داغ دل ایسا کہ جل اٹھتا تھا ہر دو گام پر
منصب ایسا تھا کہ دھو لینے کا موقع ہی نہ تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.